Description
تَبْصِرَةً وَذِكْرَى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ
قرآن حکیم کی جمال آراء اور حکمت افروز تفسیر
تبصره
12 جلدوں کا مکمل سیٹ
18 پاروں پر مشتمل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تبصرہ سید ریاض حسین شاہ کی تفسیر قرآن کا عنوان ہے۔ قرآنی تشریح یا تفسیر کی اتنی ہی طویل تاریخ ہے جتنی کہ بذات خود اسلام کی تاریخ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود قرآن کے شارح اعظم تھے جنہوں نےقرآنی آیات کی مختصر مگر واضح تشریح بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ کے صحابہ کرام اور آئمہ و اہل بیت اطہار قرآن پاک کے پہلے اور نمایاں مفسر رہے چونکہ انکو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ نہ صرف نزول قرآن کے وقت کے حالات سے باخبر تھے بلکہ انکو قرآنی آیات کے مقام نزول اور سبب نزول
کا بھی علم تھا۔ بعد ازاں دوسری اور تیسری صدی ہجری میں علماء تفسیر نے اس علم کو مروجہ سماجی، سیاسی، مذہبی اور روحانی ماحول دیااور اپنے متعلقہ زمان و مکان کے تقاضوں کے تناظر میں مکمل اسناد کے ساتھ لکھنا شروع کر دی۔ جس سے نہ صرف تفسیر کے دائرہ کار اور جہت میں وسعت آئی بلکہ اس کام کی انجام دہی کے لئے کئیاور شعبوں نے جنم لیا۔ شیخ یاسر قاضی اپنی کتاب (An Introduction to theScience of Quranمیں لکھتے ہیں کہ قرآن ایک خزانے کی مانند ہے جوکہ )شیشے کے ایک ظرف میں بند ہے اگر چہ بنی نوع انسان اس خزانے کو دیکھ کر مستفید ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لئے انکو تفسیر کی ضرورت ہوگی۔ کیوں کہ تفسیر اس کنجی کی مانند ہے جو خزانہ کھول دیتی ہے تاکہ بنی نوع انسان اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ چنانچہ علوم القرآن میں تفسیر قرآن کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے کہ وہ سائنس جس کے ذریعے قرآن کو سمجھا جاتا ہے، اس کے معانی بیان کئے جاتے ہیں اور اسکے احکام اخذ کئے جاتے ہیں۔ تبصرہ کے مصنف سید ریاض حسین شاہ صاحب دور حاضر کی ایک ممتاز شخصیت ہیں جنہوں نے تفسیر کے اس عظیم کام کو اپنا مذہبی اور روحانی فریضہ سمجھ کر شروع کیا ہے۔ آپ کی فہم و فراست اور قابلیت ان حدود و قیود کے اثر سے آزاد جو کہ بعض دینی مدارس و مکاتیب فکر کے متعصب لوگوں کا شیوہ ہے۔ تبصرہ کے مصنف سید ریاض حسین شاہ صاحب دور حاضر کی ایک ممتاز شخصیت ہیں جنہوں نے تفسیر کے اس عظیم کام کو اپنا مذہبی اور روحانی فریضہ سمجھ کر شروع کیا ہے۔ مصنف کی فکر و قابلیت کی خوبی یہ ہے کہ آپ کی سوچ باقی مدارس و مکاتیب کے چند لوگوں کے برعکس تنگ نظری اور تعصب کے اثرات سے آزادہے بلکہ آپ تو وہ روشن خیال شخصیت ہیں جو کہ نہ صرف روایتی مدرسہ کی تعلیم سے آراستہ ہیں بلکہ گارڈن کالج راولپنڈی کے گریجویٹ اور آئی بی اے کراچی سے ایم بی اے ڈگری کے حامل ہے۔ اس کے علاوہ آپ نہ صرف سلاسل اربعہ یعنی سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ چشتیہ، سلسلہ قادریہ، اور سلسلہ سہرودیہ کے روحانی راستوں اور مضامین عمل سے گزرے ہیں۔ بلکہ مذکورہ بالا چار بڑے سلاسل تصوف میں بیعت کرنے کے سند یافتہ(مجاز) ہیں۔ آپ کا رجحان موروثی(خاندانی) طور پر زمانہ طالبعلمی ہی سے تنہائی اور غور و فکر کی طرف تھا۔ خاص طور پر چاندنی راتوں اور اندھیری راتوں میں بھی آپ گھنٹوں پہاڑوں اور بیابانوں میں ستاروں، چاند، کائنات اور اپنی ذات عبدیت کے بارے میں غور و فکر کرنے میں گزارتے مراقبہ کی وجہ سے پیدا بے سکونی کیفیت نے انہیں تقریباً مجذوبیت کی پر سکون کیفیت میں رہبانیت کے دہانے پر پہنچا دیا تھا، جب ایک عظیم اور روحانی طور پر بلند پایہ بابا جی انہیں بچانے کے لیے آئے۔ اگر چہ یہ روحانی پیشوا بظاہر بہت سادہ انسان تھے لیکن ایک بلند پایہ صوفی ہونے کے ناطے آپ نے اپنی صلاحیت اور تجربے سے مصنف کی شخصیت کو مکمل طور پر متاثر اور تبدیل کیا۔ تبصرہ مصنف کے ان علمی، مذھبی، اور روحانی تجربات کا نتیجہ ہے جو انکو اپنے پیشوا سے حاصل ہوئی۔ جس نے انکو جسمانی اور مابعد الطبیعاتی ظخیم اور متنوع ذرائع علم سے استفادہ حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ چنانچہ اب وہ ایک صالح شخصیت کے طور پر، بغیر کسی ابہام کے صحیح اور غلط کے درمیان سرحدوں کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس لیے بعض اوقات وہ تنگ نظر دانشوروں کے تعصب کا نشانہ بن جاتے ہیں، لیکن ان کی علمی و فکری برتری ان کے مخالفین پر حاوی ہو جاتی ہے۔ ایک مفسر یا شارح کی حیثیت سے ان کے نقطہ نظر کی ایک بہت بڑی خصوصیت انکی دیگر سنی منابع کے ساتھ ساتھ اہلبیت اطہار کے نظریات پر صاف گوئی کے ساتھ دلیرانہ انحصار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تفسیر فرقہ وارانہ تعصبات اور تنازعات کی حدود اور رکاوٹوں سے بالاتر/پاک ہے۔ (اب تک سید ریاض حسین شاہ صاحب اپنی تفسیر کی آٹھ جلدیں شائع کر چکے ہیں جو کہ پارہ تیرا سورہ ابرھیم تک ہے) اپنے شاگردوں کے لئے ایک روحانی رہنما کے طور پر ان کی فوقیت ہمیشہ قرآن سے رشتہ استوار کرنے اور دل میں اللہ کی یاد ( یعنی ذکر خفی) کی شمع روشن کرنے پر ہوتا ہے۔ انکی تعلیمات کے مطابق اللہ سبحانہ و تعالٰی کا خاموشی سے ذکر صوفیانہ راہ میں ترقی پانے کی کنجی ہے۔ تبصرہ میں ان کی فصاحت و بلاغت اس وقت اپنے عروج پر ہوتا ہے جب وہ آیاتقرآنی کی تشریحات اور معانی کو اہلبیت کی پاکیزہ ہستیوں کے خیالات کے ساتھ جوڑتے ہیں جو نہ صرف ان کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل بیت سے بے پناہ عقیدت کی نشاندہی کرتے بلکہ انکی روحانی و الہامی طاقت کے اصل ذرائع کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔جیسا کہ تبصرہ کے مندرجات اور ان کی تعلیمات سے ظاہر ہے کہ ان کی طرف سے اپنے شاگردوں کو عطا کردہ حکمت کے مستقل موتی ہمیشہ قرآن، قرآن اور قرآن کے ساتھ مشغول رہنا اور مولا علی حیدر کرار رضی اللہ عنہ سے محبت جو کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب تھے۔ وہ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ قرآن حق ہے، اور جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، حق علی کے ساتھ ہے، تو قرآن علی کے ساتھ ہے اور علی قرآن کے ساتھ ہے، اس لیے قرآن اور علی لازم وملزوم ہیں۔
Reviews
There are no reviews yet.